نئی دہلی، 19؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ اگر کسی مجرم کو ایک یا اس سے زیادہ جرائم میں ایک سے زیادہ بار عمر قید کی سزا دی جاتی ہے تو اس کی یہ سزا ایک ساتھ ہی چلیں گی الگ الگ نہیں۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے قانون سے متعلق کئی سوالات پر یہ فیصلہ دیا ہے۔اس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا مجرم کو ایک یا اس سے زیادہ معاملوں میں ایک سے زیادہ بار عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔بنچ میں جسٹس ایف ایم آئی خلیف اللہ ا، اے سیکری، ایس اے بوبڈے اور آر بھانومتی بھی شامل ہیں۔بنچ نے کہا کہ نچلی اورہائی کورٹ کسی معاملہ کے مجرم کو عمر قید کے ساتھ ساتھ مقررہ مدت کی سزا بھی سنا سکتی ہے ۔اس میں مجرم سے پہلے مقررہ مدت کی سزا اور پھر عمر قید کی سزا کاٹنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔یہ فیصلہ کچھ درخواستوں کی بنیاد پر آیا ہے۔انہیں میں سے ایک معاملہ اے متھورامالنگم کا تھا، جس میں انہوں نے ایک معاملے میں دی گئی سزا کے بارے میں پوچھا تھا کہ یہ سزائیں ساتھ ساتھ بھگتی جا سکتی ہیں یا انہیں ایک کے بعد ایک بھگتناہو گا۔